Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
60 - 645
 زِینے پر قَدم رکھا تو جبریلِ امینعلیہ السَّلام نے عرض کی: ’’جس کے سامنے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذِکر ہوا اور اس نے آپ پر دُرُود نہ پڑھا وہ بھی (اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رَحمت سے) دُور ہو۔‘‘تو میں  نے کہا: ’’آمین۔‘‘ پھر جب میں  نے تیسرے زِینے پر قَدم رکھا تو جبریلِ امین علیہ السلام نے عرض کی : ’’جس نے اپنے والدین یا ان میں  سے کسی ایک کو بڑھا پے میں  پایا پھر اُنہوں  نے اسے جَنَّت میں  داخل نہ کیا تو وہ بھی (اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رَحمت سے) دُور ہو۔‘‘ تو میں  نے کہا :’’ آمین۔‘‘(مستدرک، کتاب البروالصلۃ ، باب لعن اللّٰہ العاق لوالدیہ … الخ،۵/۲۱۲، حدیث: ۷۳۳۸) 
مُفسّرِ شہیرحکیم الاُمَّت حضرت مُفْتی احمد یار خان نعیمی (عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہ القوی)اس حدیثِ پاک کے تحت ارشاد فرماتے ہیں  :’’یعنی ایسا مُسلمان ذَلیل وخوار ہوجائے جو میرا نام سُن کردُرُود نہ پڑھے ۔عربی میں  اس بَددُعا سے مُراد اِظہارِ ناراضی ہوتا ہے حقیقتاً بَددُعا مراد  نہیں   ہوتی ،مطلب یہ ہے کہ جو بِلا محنت دس رَحمتیں   دس دَرَجے دس مُعافیاں  حاصل نہ کرے بڑا بے وقُوف ہے۔‘‘ (مراٰۃ، ۲/۱۰۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد 
خوفناک کالا سانپ
ایک شخص کا اِنتقال ہوگیا۔ اُس کے لیے قَبر کھو دی گئی تو قَبر میں  ایک خوفناک کالا سانپ نظر آیا۔ لوگوں  نے گھبرا کر وہ قَبر بند کردی اور دوسری جگہ قَبر کھودی۔ وہاں  بھی وہی سانپ موجودتھا۔ تیسری جگہ قَبر کھودی وہی خوفناک کالا