کرسُسْتی و غَفْلَت کے باعث دُرُود شریف نہ پڑھنانہ صِرف عظیم سَعادَت سے مَحرومی کا باعث ہے بلکہ ہَلاکت وبربادی اور اللّٰہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔چُنانچہ
رَحْمتِ الٰہی سے دُ ور
حضرتِ سَیِّدُنا کَعب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مَروی ہے کہ ایک مرتبہ خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’مِنْبر کے قریب آجاؤ۔‘‘ ہم مِنْبر شریف کے قریب حاضِر ہو گئے، جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پہلے زِینے پر قَدمِ مُبارک رکھا تو اِرشاد فرمایا: ’’آمین۔‘‘جب دوسرے زِینے پرقَدمِ مُبارک رکھا تو ارشاد فرمایا: ’’آمین۔‘‘اور جب تیسرے زِینے پر قَدمِ مُبارک رکھا تو بھی ارشاد فرمایا: ’’آمین۔‘‘ پھر جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مِنْبر شریف سے نیچے تشریف لائے تو ہم نے عرض کی: ’’یا رسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آج ہم نے آپ سے ایسی بات سُنی ہے جو پہلے کبھی نہ سُنی تھی۔‘‘آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :’’ جبریلِ امین عَلَیْٓہِ السَّلام میرے پاس حاضِر ہوئے اور عرض کی : ’’جس نے رَمَضان کا مہینہ پایا اور اس کی مَغْفِرت نہ ہوئی وہ (اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رَحمت سے) دُور ہو۔‘‘ تو میں نے کہا:’’آمین ۔ ‘‘ فَلَمَّا رَقَّیْتُ الثَّانِیَۃَ قَالَ بُعْداً لِّمَنْ ذُکِرْتَ عِنْدَہٗ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْکَ، قُلْتُ آمِیْن،جب میں نے دوسرے