ہمیں بھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بے نِیازی اور اس کی خُفْیہ تَدْبیر سے ڈرتے رہنا چاہیے اورنبیِّ پاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود شریف پڑھنے میں غَفْلَت نہیں کرنی چاہیے۔آج سے پہلے ہوسکتا ہے بارہا ایسا ہوا ہو کہ ہم نے نامِ اقدس سن کر یا بول کر دُرُود شریف نہ پڑھا ہو۔چونکہ یہ رِعایت مَوجُود ہے کہ اگر اس وَقت نہ پڑھے تو بعد میں بھی پڑھ سکتا ہے لہٰذا اب پڑھ لے اور آئندہ کوشش کرکے اُسی وَقت پڑھ لیا کرے ورنہ بعد میں پڑھ لے۔
دُرودِ پاک پڑھنے کا شَرْعی حُکْم
صَدْرُالشَّریعہ،بَدْرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامُفْتی محمد اَمجد علی اَعْظمِی عَلَیْہ رَحْمۃُ اللّٰہ الْقوِیفرماتے ہیں :’’عُمر میں ایک مرتبہ دُرُودشریف پڑھنا فرض ہے اورہر جلسۂ ذِکر میں دُرُودشریف پڑھنا واجِب خواہ خُود نامِ اَقدس لے یادوسرے سے سُنے۔ اگر ایک مَجلس میں سو بار ذِکر آئے تو ہر بار دُرُودشریف پڑھنا چاہئے۔ اگرنامِ اقدس لیا یا سُنا اور دُرُودشریف اُس وَقت نہ پڑھا تو کسی دوسرے وَقت میں اس کے بدلے کا پڑھ لے۔ ‘‘(بہارِ شریعت ،۱/۵۳۳)
ہر دَم مِری زباں پہ دُرُود و سلام ہو میری فُضُول گوئی کی عادَت نِکال دو
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُود و سلام پڑھنے کے جہاں بے شُمارفَضائِل وبَرَکات ہیں ، وہیں نامِ اَقدس سُن