Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
57 - 645
بیان نمبر :5
دُرُودِ پاک نہ پڑھنے کا وبال
دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کے مَطْبُوعہ39 صفحات پر مشتمل رسالے ’’بُرے خاتمے کے اَسْباب‘‘ کے صفحہ 1پرمنقول ہے ، ایک شخص کو انتِقال کے بعد کسی نے خَواب میں  سر پر مجوسیوں (یعنی آتَش پرستوں )  کی ٹوپی پہنے ہوئے دیکھا تو اِس کا سبب پوچھا، اُس نے جواب دیا: جب کبھی محمدِمصطَفٰیصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ و سلَّمْ کانامِ مبارَک آتا میں  دُرُود شریف نہ پڑھتا تھا اِس گُناہ کی نُحُوست سے مجھ سے مَعْرِفت اور اِیمان سَلب کرلئے گئے۔(سبع سنابل، ص۳۵ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ؟گناہوں  کی نُحُوست کس قَدَر بَھیانک ہے کہ اس کے سبب موت کے وَقت ایمان برباد ہوجانے کا خطرہ رہتا ہے۔ یہاں  یہ ضَروری مَسءَلہ ذِہن نشین فرما لیجئے کہ کسی کے بارے میں  بُرا خَواب دیکھنا بے شک باعِثِ تَشْوِیش ہے تاہم غیرِ نبی کا خَواب شَرِیعت میں  حُجَّت یعنی دلیل  نہیں   اورفَقَط خَواب کی بُنیاد پر کسی مسلمان کو کافِر  نہیں   کہا جا سکتا نیز مسلمان میِّت پر خَواب میں  کوئی علامتِ کُفر دیکھنے یا خُود مرنے والے مسلمان کا خَواب میں  اپنے ایمان کے برباد  ہونے کی خَبر دینے سے بھی اُس کو کافِر  نہیں   کہہ سکتے۔