اُمَّتِی کی پریشانی دُور کردے۔ ‘‘(۲)’’وَمَنْ اَحْیَا سُنَّتِی،میری سُنَّت کو زِندہ کرنے والا۔‘‘ (۳) ’’وَمَنْ اَکْثَرَ الصَّلَاۃَ عَلَیَّاور مجھ پر کثرت سے دُرُود شریف پڑھنے والا۔ ‘‘(بستان الواعظین لابن الجوزء، ص۲۶۰،۲۶۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دُرُود و سلام کے فَیْضان کو عام کرنا تبلیغِ قُراٰن و سنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تَحریک دعوتِ اسلامی کا طُرَّۂ اِمْتِیاز ہے، اس مدنی ماحول سے مُنْسلِک ہر مُبلِّغ اپنے دَرس و بیان کی اِبتدا دُرُود و سلام سے کرتا ہے، بعض اَوقات مَدَنی ماحول سے وابَستہ اِسلامی بھائیوں پر رَبِّ کائنات عَزَّوَجَلَّ کے ایسے ایسے اِنعامات ہوتے ہیں کہ عَقْلیں حیران رَہ جاتی ہیں ۔ چُنانچہ
موتیا جاتا رہا
حَیْدرآبادکے علاقے عُثْمان آباد(گؤشالہ) کے رہائش پَذیر دعوتِ اِسلامی سے وابَستہ اِسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب پیش خِدْمَت ہے: میرے والد صاحب جو پاکستان آرمی (فوج ) میں مُلازِم تھے ا نہیں آنکھ میں موتیا اُتر آیا جس کی وَجہ سے وہ آرمی میڈیکل بور ڈ(صِحَّت کی خرابی کیوجہ سے ریٹائر) ہوچکے تھے یقینا آنکھیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا کردَہ بہت بڑی نِعْمَت ہیں اس کی قَدَر تووہی بتا سکتا ہے جوبینائی سے مَحروم ہے میں نے ۱۴۲۵ھ بمطابق 2004ء میں اپنے والدمُحترم کو بلوچستان میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے صوبائی سطح کے سُنَّتوں بھرے اِجتماع میں شِرکت کی دعوت پیش کی ، اُنہوں نے دعوت قَبول کی