Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
53 - 645
 دَرس وبیان کرنے میں  مَصروف رہتے ہیں  ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! تبلیغِ قُرآن وسُنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تَحریک دعوت ِاسلامی کے مُشکبار مَدَنی ماحول میں  یہ معمول ہے کہ جب بھی کوئی مُبلِّغ سُنَّتوں  بھرے دَرس یا بیان کا آغاز کرتا ہے تو اَوَّلاً ’’ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسََّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ پڑھتا ہے جس میں  پہلے حمدِباری تعالیٰ اور پھر دُرُود وسلام ہے، اسکے بعد حاضِرین کو دُرُود وسلام کے چارصیغے پڑھائے جاتے ہیں  نیز دُرُود وسلام کی فَضِیلت بتا کر حاضِرین سے دُرُود پڑھوایا جاتا ہے بلکہ بیان کے دوران بھی وَقتاً فوقتاً ’’صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب‘‘کی صدائیں  لگا کر دُرُودِ پاک پڑھنے کی ترغیب بھی دی جاتی اور پڑھوایا بھی جاتا ہے۔ 
جو خوش نصیب اسلامی بھائی سُنَّتوں  بھرا بیان کرنے یا دَرس دینے کی سَعادَت حاصل کرتے ہیں  ان کی خِدْمَت میں  عرض ہے کہ بعض اَوقات تیزی سے اَدائیگی کی بنا پر دُرُودِ پاک کے اَلفاظ چب کر ادا ہوتے ہیں  ،اس طرح اَدائیگی سے دُرُودِ پاک کی بَرَکات سے مَحرومی تو ہوتی ہی ہے،ساتھ ساتھ لوگوں  کو شَدِید بَدظن ہوتے بھی دیکھا گیا ہے۔لہٰذا سُنَّتوں  بھرا بیان کرتے یا دَرس دیتے ہوئے جب بھی دُرُودِپاک پر پہنچنے لگیں  تو فوراً ذِہن بنا لیں  کہ اب رَفتار آہِستہ کرکے دُرُست طریقے سے دُرُودشریف ادا کرنا ہے۔اس طرح پہلے ہی