واعِظ پردُرُود وسَلام کے سبب کرم بالائے کرم
حضرتِسَیِّدُنا منصور بن عَمَّار (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغفَّار) کو اِنتقال کے بعد کسی نے خَواب میں دیکھا اور پوچھا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟ ‘‘جواب دیا کہ میرے پَرْوَرْدْگار عَزَّوَجَلَّنے مجھ سے سُوال کیا: ’’تو منصور بن عَمّار ہے ؟‘‘میں نے عرض کی: ہاں یارَبَّ العالمین(جَلَّ جلالُہ)،پھر فرمایا: ’’تو ہی ہے جو لوگوں کو دُنیا سے نَفرت دِلاتا تھا اور خُود دُنیا کی طرف راغب تھا۔ ‘‘ میں نے عرض کی:’’ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! واقعی بات تو یہی ہے، لیکن جب بھی میں نے کسی اِجتماع میں بیان شُروع کیا تو پہلے تیری حَمدو ثنا کی، اِس کے بعد تیرے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِ پاک پڑھا پھر اِس کے بعد لوگوں کو وَعْظ و نصیحت کی۔ ‘‘میری اِس عرض کے بعد اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت جوش میں آئی اور اِرشاد ہوا : ’’ضَعُْوْا لَہُ کُرْسِیًّا فِیْ سَمٰوَاتِیْ یُمَجِّدُنِیْ بَیْنَ مَلَائِکَتِیْ کَمَا یُمَجِّدُنِیْ بَیْنَ عِبَادِی،یعنی اے فِرِشتو! اس کے لیے آسمانوں میں مِنْبَر رکھو تاکہ جیسے یہ دُنیا میں بندوں کے سامنے میری بُزُرگی بیان کرتا تھا آسمانوں میں یہ فِرِشتوں کے سامنے میری عَظْمَت بیان کرے۔‘‘ (القول البدیع،الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ، ص۴۵۶)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یقینا وہ اِسلامی بھائی بہت خُوش نصیب ہیں جو