گرامی پر پڑھا جانے والا دُرُودِپاک اللّٰہ تعالیٰ کے مَعْصُوم فِرِشتے بارگاہِ رِسالت میں پیش کرتے ہیں ۔ چُنانچہ
حضرتِ سَیِّدُناعبدُاللّٰہابنِ مَسْعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے رِوایت ہے کہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا: ’’اِنَّ لِلّٰہِ مَلَائِکَۃً سَیَّاحِیْنَ فِی الْاَرْضِ یُبَلِّغُوْنِیْ مِنْ اُمَّتِی السََّلَامَ،یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے کچھ فِرِشتے زمین میں سیر وسیاحت کرتے ہیں جو میری اُمَّت کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں ۔ ‘‘(مشکوۃ،کتاب الصلوۃ، باب اَلصَّلاۃُ علی النبی وفضلہا،۱/۱۸۹،حدیث:۹۲۴)
مُفسرِشہیر حکیم الاُمَّت مُفْتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ القویاس حدیثِ پاک کے تحت اِرشاد فرماتے ہیں :’’ یعنی ان فِرِشتوں کی یہی ڈیوٹی ہے کہ وہ آستانہ عالیہ تک اُمَّت کا سَلام پہنچایا کریں ۔یہاں چند باتیں قابلِ خیال ہیں ۔‘‘
(1) ایک یہ کہ فِرِشتے کے دُرُود پہنچانے سے یہ لازِم نہیں آتا کہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بنفسِ نفیس ہر ایک کا دُرُود نہ سنتے ہوں ،حق یہ ہے کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہر دُور و قریب کے دُرُود خواں کا دُرُود سُنتے بھی ہیں اور دُرُود خواں کی عِزَّت اَفزائی کے لیے فِرِشتے بھی بارگاہِ عالی میں دُرُود پہنچاتے ہیں تاکہ دُرُود کی برکت سے ہم گُنہگاروں کا نام آستانہ ٔعالیہ میں فرشتے کی زبان سے ادا ہو۔ حضرتِ سَیِّدُنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے تین میل سے چیونٹی کی آواز سنی توحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہم