بیان نمبر :4
جَنَّت کا اَنوکھا پَھل
اَمِیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے رِوایت ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے جَنَّت میں ایک دَرخت پیدا فرمایا ہے جس کا پَھل سیب سے بڑا، اَنار سے چھوٹا،مَکھن سے نرم ، شہد سے بھی میٹھااورمُشک سے زِیادہ خُوشْبُودار ہے۔ اس دَرخت کی شاخیں تر موتیوں کی، تنے سونے کے اور پَتے زَبَرجَد کے ہیں ۔ لَا یَاْکُلُ مِنْہَا اِلَّا مَنْ اَکْثَرَ مِنَ الصَّلَاۃِ عَلٰی مُحَمَّدٍ(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اس دَرخت کا پَھل صِرف وہی کھا سکے گا جوسرکارِ والا تَبار، حبیبِ پَرْوَرْدْگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پرکثرت سے دُرُودِپاک پڑھے گا۔ (الحاوی للفتاوٰی للسیوطی، ۲/۴۸)
وہ تو نہایت سَسْتا سودا بیچ رہے ہیں جَنَّت کا
ہم مُفْلِس کیا مول چکائیں اپنا ہاتھ ہی خالی ہے (حدائقِ بخشش،ص۱۸۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھاآپ نے دُرُودوسلام پڑھنے والا مُسلمان کس قَدر خُوش نصیب ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے جَنَّت میں اس کے لئے کس قَدر اِنعام واِکرام تیار کررکھے ہیں ۔اورحُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ