صَلْعَم لکھنا مَحْرُوموں کا کام ہے
حضرتِ سَیِّدُنا شیخ احمد بن شَہابُ الدِّین بن حَجر ہیتمی مکِّی علیہ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنی ’’فَتَاویٰ حَدِیْثِیَہ‘‘ میں لکھتے ہیں :’’وَکَذَا اِسْمُ رَسُوْلِہٖ بِاَنْ یُّکْتَبَ عَقْبَہٗ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَدْ جَرَتْ عَادَۃُ الْخَلَفِ کَالسَّلَفِ، رسُول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اسِم گرامی کے بعد’’ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ‘‘ لکھا جائے کہ یوں ہی تمام سَلَف صالحین کا طریقہ چلا آرہا ہے۔‘‘ ’’وَلَا یُخْتَصَرُ بِکِتَابَتِھَا بِنَحْو ِ’’صَلَْعَمْ‘‘ فَاِنَّہٗ عَادَۃُ الْمَحْرُوْمِیْنَ ،یعنی دُرُودلکھتے وقت اِس کو اِختصار کرکے ’’صَلْعَم ‘‘نہ لکھا جائے کہ یہ مَحروم لوگوں کا کام ہے۔‘ ‘ (الفتاوی الحدیثیہ،مطلب فی بیان کیفیۃ وضع الکتب،ص۳۰۶) اور جو خوش نصیب لو گ نام مبارک کے ساتھ دُرُود پاک لکھنا پڑھنا اپنی عادت بنالیتے ہیں وہ اسکی بَرَکات بھی حاصل کرتے ہیں ۔
’’وَسَلَّم‘‘پرچالیس نیکیاں
حضرت سَیِّدُنااُبوسُلَیْمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰناپنے مُتعلق واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے خَواب میں مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا دِیدار کیا ۔ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’اے ابُوسلیمان ! تو میرا نام لیتا ہے اور اس پر دُرُود شریف بھی پڑھتا ہے ’’وَسَلَّم‘‘ کیوں نہیں کہتا؟ یہ چار حَرف ہیں اور ہرحَرف پر دس نیکیاں مِلتی ہیں ۔‘‘(القول البدیع،الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ، ص۴۶۴)