فرماتے ہیں : ’’پہلا شخص جس نے دُرُود شریف کا اِختصار ایجاد کیا اُس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔‘‘ (تدریب الراوی للسُیوطی، ص۲۸۴)اللّٰہ اکبر!(عَزَّوَجَلَّ) کتنا مَحَبَّت بھرا دَور تھا کہ ’’ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم‘‘ کا مُخَفَّفاِیجاد کرنے والے کا ہاتھ ہی کاٹ دیا گیا۔ کیوں نہ ہو کہ جوصِرف مال کی چوری کرتا ہے اُس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے تو اُس بدنصیب نے تو مال نہیں بلکہ عَظْمَتِ مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی چوری کرنے کی کوشش کی تھی۔ اور جس کے دل میں عَظْمَتِ مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمراسِخ ہے وہ بخُوبی سمجھتا ہے کہ مال کی چوری سے شانِ مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں چوری کرنا زیادہ سَنگین جُرم ہے۔ اور مذکورہ بالا سزا پھر بھی کم ہے لیکن اَفْسوس کہ آج کل تو یہ چوری عام ہوچکی ہے۔ ہر کتاب، ہر رِسالہ، ہر اَخبار’’ صَلْعَم ‘‘ اور’’ ؐ ‘‘سے بھرا پڑا ہے۔ اب نوبت لکھنے ہی کی حَد تک نہیں رہی بلکہ اب تو لوگوں کی زبان پر بھی ’’ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم‘‘ کے بجائے ’’ صَلْعَم‘‘ ہی سُنائی دینے لگا ہے!
یاد رکھیئے!’’صَلعم ‘‘ایک مُہمَل کَلِمہ ہے۔ اس کے کوئی مَعْنیٰ نہیں بنتے۔ (فتاوی افریقہ،ص۵۰ملخصاً) لہٰذا محمد مُصْطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سچی مَحَبَّت رکھنے والے اِسلامی بھائیو! جلد بازی سے کام نہ لیا کریں ۔ پورا ’’ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم‘‘ لکھنے، پڑھنے کی عادَت ڈالیں ۔