میں تو ہزارہا صَفْحات سِیاہ کردیئے جاتے ہیں لیکن جب میٹھے مُصْطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا پیارا اِسمِ گرامی آتا ہے۔ لکھنے والے بھائی ’’ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم‘‘ کی مُختصَر عِبارت لکھنے میں سُسْتی کرجاتے ہیں ۔ امام ِ اَہلسُنَّت عاشقِ ماہِ رسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُالرَّحمٰنکی خِدْمَت میں اِسْتِفْتاء پیش ہوا۔ مُسْتَفْتِی نے سوال میں ’’ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم‘‘ کی جگہ ’’صَلْعَم‘‘ لکھ دیا تھا۔ اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس پر تَنْبیہ فرمائی۔ چنانچہ ’’فتاویٰ اَفرِیقہ‘‘ میں تحریر ہے:
سوال میں ’’صلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم‘‘ کی جگہ ’’صَلْعَم‘‘لکھا ہے اور یہ سخت ناجائز ہے۔یہ بَلا عوام تو عوام ۱۴ ویں صدی کے بڑے بڑے اَکابِر و فُحُول کہلانے والوں میں بھی پھیلی ہوئی ہے، کوئی ’’صَلْعَم‘‘ لکھتا ہے۔ کوئی ’’صللم‘‘ کوئی فقط ’’ ؐ ‘‘ کوئی ’’عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلام‘‘کے بدلے ’’عم‘‘ یا’’ع م‘‘ ایک ذَرّہ سیاہی یا ایک اُنگل کاغذ یا ایک سیکنڈ وَقت بچانے کے لیے کیسی کیسی عظیم بَرَکات سے دُور پڑتے اورمَحرومی و بے نصیبی کا ڈانڈا پکڑتے ہیں ۔ (فتاوی افریقہ،ص۵۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
’’صَلْعَم ‘‘کے مُوجِد کا ہاتھ کاٹا گیا
حضرتِ سیِّدُناعلّامہ جلالُ الدِّین سُیُوطِی شافِعی عَلَیْہ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْکافِیْ