دُرُود شریف لکھناواجِب ہے
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہکی مطبوعہ 1250 صفحات پر مشتمل کتاب بہارِ شریعت،جلد1صفحہ 534پر ہے: ’’جب سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا نامِ اَقدس لکھے تو دُرُودِ پاک ضرور لکھے کہ بعض عُلماکے نزدیک اس وقت دُرُود شریف لکھنا واجِب ہے۔‘‘ (در المختارو ردالمحتار،‘کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب: نصّ العلماء علی استحباب الصلاۃ۔۔۔إلخ، ۲/۲۸۱)
’’ص‘‘ یا صَلْعَمْ لکھنا سَخْت حَرام ہے
اکثر لوگ آجکل دُرُود شریف کے بدلے صَلْعَم ، عم، ؐ، اور ؑ لکھتے ہیں ۔ یہ ناجائز و سخت حرام ہے۔ یونہی ’’ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ‘‘ کی جگہ’’ ؓ‘‘ ’’رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ‘‘ کی جگہ’’ ‘‘ لکھتے ہیں یہ بھی نہ چاہیے۔ جن لوگوں کے نام محمد، اَحمد، علی، حسن،حُسین وغیرہ ہوتے ہیں ۔ اُن ناموں پر’’ ؐ ‘‘ ، ’’ ؑ‘‘بناتے ہیں یہ بھی مَمْنوع ہے کہ اس جگہ یہ شخص مُراد ہے۔ اس پر دُرُود کا اِشارہ کیا معنیٰ؟(فتاوی رضویہ،۲۳/۳۸۷ و بہارشریعت ۱/۵۳۴)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے نامِ مُبارک کے ساتھ بھی عَزَّوَجَلَّ یا جَلَّ جَلَالہُ پُورا لکھیں ۔ آدھے جیم (ج) پر اِکتفا نہ کریں ۔
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!آج کل کیسا نازُک دور ہے۔ فُضُول مَضَامِین