جب میں کِتاب میں نبیِّ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا نامِ مُبارک لکھتا تھا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِسمِ گرامی کے بعد ’’ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم‘‘ لکھا کرتا تھا۔‘‘ (القول البدیع،الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ،ص۴۶۸)
حضرتِ سَیِّدُنااسماعِیل بن علی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِینے اپنے والد سے روایت کیا کہ خَواب میں ایک مُحدِّث کو دیکھ کر دَریافت کیا کہ حق تعالیٰ نے کیا سُلوک کیا؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ مجھے بخش دیا گیا۔پوچھا کس سبب سے؟ فرمایا: ’’جب میں نبیِّ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا نامِ مُبارک لکھتا تھا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِسمِ گرامی کے بعدان دو اُنگلیوں سے ’’صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم‘‘ لکھا کرتا تھا۔ ‘‘ (القول البدیع،الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ،ص۴۶۸)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ دُرُودِپاک پڑھنے اور لکھنے والے کا بہت بڑا مَقام ہے۔ اَدب کا تقاضا یہی ہے کہ جب بھی سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکانامِ اَقدس لکھا جائے تو اس کے ساتھ ’’ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم‘‘ ضرور لکھیں اور صِرف لکھنے ہی پر اِکتِفا نہ کریں بلکہ زبان سے بھی دُرُود شریف پڑھیں ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد