اِصلاح کی کوشش کیلئے مَدنی قافِلوں میں سَفر کرنا ہے۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّعاشقان رسول کے ساتھ مدنی قافلے میں سَفرکی بڑی بَرَکتیں ہیں ،بے شُمار اَفراد جو گُناہوں بھری زِندَگی بَسر کررہے تھے مَدَنی قافِلے کی بَرَکت سے تائِب ہوکر پابندِ صلوۃ وسُنَّت بن گئے۔ چُنانچہ
مارشل آرٹ کا ماہر مُبَلِّغ کیسے بنا؟
سَردارآباد (فیصل آباد) میں مُقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخُلاصہ ہے کہ دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی ماحول میں آنے سے قَبل میں بگڑے ہوئے کِردار کا مالک تھا، جُھوٹ، غیبت، چُغْلی جیسے گُناہ میری نوکِ زبان پر رہتے اور بَدنِگاہی کرنا میرے روز کے معمولات میں شامل تھا۔ میں مارشل آرٹ سیکھا ہوا تھا جس کے بَل بوتے پر لوگوں سے خواہ مخواہ جھگڑا مول لیتا۔ ہر نئے فیشن کواَپنانا میرا وَطِیرہ تھا۔ آہ! نمازوں سے اس قَدَر دُوری تھی کہ مجھے یہ بھی معلوم نہ تھاکہ کس نمازکی کتنی رَکعتیں ہوتی ہیں ۔ آخرکارعِصْیاں کے دِن خَتْم ہوئے، رَحمت کا دَر کُھلا اور میری قِسمت یُوں چمکی کہ میری مُلاقات اپنے ایک دوست سے ہوئی جو تبلیغِ قُراٰن وسُنَّت کی عالمگیرغیر سیاسی تَحریک دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوگئے تھے۔ اُنہوں نے اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھیمدَنی قافِلے میں سَفر کرنے کی دعوت دی، دوست کی بات نہ ٹال سکا اور ہاتھوں ہاتھ تین دن کے مَدَنی