تعظیمی ہی تھا۔ اَشْعَۃُ الَّلمعات کتابُ الاَدَب بابُ الْقِیام میں اس حدیث ’’قُوْمُوْااِلٰی سَیِّدِکُمْ‘‘کے تَحت مَذکور ہے ۔جمہور عُلما نے علمائے صالحین کی تَعْظِیم کرنے پر اِتفاق کیا ہے اِمام نَووِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوی نے فرمایا :’’کہ بُزُرگوں کی تشریف آوَری کے وَقت کھڑا ہونا مُسْتحَب ہے اس بارے میں اَحادیث آئی ہیں اور اس کی مُمانَعت میں صَراحۃً کوئی حدیث نہیں آئی،قنیہ سے نَقل کیا کہ بیٹھے ہوئے آدَمی کا کسی آنے والے کی تَعْظِیم کے لئے کھڑا ہوجانا مَکرُوہ نہیں ۔ عالمگیری کتابُ الکَراہۃ باب ملاقات الملوک میں ہے ۔ ’’تَجُوْزُ الْخِدْمَۃُ بِغَیْرِ اللّٰہِ تَعَالٰی بِالْقِیَامِ وَاَخذِ الْیَدَیْنِ وَالْاِنْحِنَاءِ،غیرِ خُدا کی عَظْمَت کرنا کھڑے ہوکر، مُصافَحہ کرکے ، جُھک کر ہرطرح جائز ہے۔ ‘‘ اس جگہ جُھکنے سے مُراد رُکوع سے کم جُھکناہے ۔ تاحدِ رُکوع جُھکنا تو ناجائز ہے ۔ ‘‘
شامی جلد اَوَّل باب ُالاِمامَت میں ہے کہ اگر کوئی شخص مسجد میں صفِ اَوَّل میں جَماعت کے اِنتظار میں بیٹھا ہے اور کوئی عالِم آدَمی آگیا ،اس کے لئے جگہ چھوڑدینا خُود پیچھے ہٹ جانا مُسْتَحب ہے بلکہ اس کے لئے پہلی صف میں نماز پڑھنے سے اَفضل ہے یہ تَعْظِیْم تو عُلمائے اُمَّت کی ہے لیکن صِدِّیق اَکبررَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ نے توعَین نَماز پڑھاتے ہوئے جب حُضُورعَلَیْہِ السَّلام کو تشریف لاتے دیکھا تو خُود مقتدی بن گئے اور بیچ نَماز میں حُضُورعَلَیْہ السَّلام امام ہوئے۔(جاء الحق ،ص۲۰۴تا۲۰۵ ملتقطاً وملخصاً)