Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
352 - 645
	جواب : جی  نہیں   ! جس طرح چاہیں  دُرودِ پاک پڑھ سکتے ہیں  ، بیٹھ کر پڑھیں  یا کھڑے ہوکریا پیدل چلتے ہوئے یا پھر لیٹ کر مگر لیٹنے میں  یہ احتیاط رہے کہ پاؤں  سمٹے ہوئے ہوں  ، البتہ کھڑے ہوکر ہاتھ باندھ کر دُرُودِپاک پڑھنے میں  تَعْظِیمکا پہلو زِیادہ ہے۔ 
	یاد رکھئے!کسی مُعَظَّمِ دینی کی تَعْظِیمکے لئے کھڑے ہونا مَسنون ومُسْتحَب عمل ہے چُنانچہ مُفَسّرِ شہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مُفْتی احمد یار خان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناپنی کتاب  ’’جاءَ الْحق‘‘ میں  فرماتے ہیں  : ’’جب کوئی دینی پیشوا آئے تو اس کی تَعْظِیم کے لئے کھڑا ہوجانا سُنَّت ہے اسی طرح جب دِینی پیشوا سامنے کھڑا ہو تو اُ س کے لئے کھڑارہنا سُنَّت  اور بیٹھا رہنا بے اَدبی ہے ۔ مشکوٰۃ شریف میں  ہے کہ جب سَعَد اِبن معاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ مسجدِ نَبْوِی میں  حاضِر ہوئے تو حُضُورعَلیْہ السَّلام نے اَنصار کو حکم دیا ۔ ’’قُوْمُوْا اِلٰی سَیِّدِکُمْ یعنی اپنے سردار کے لئے کھڑے ہوجاؤ ۔ ‘‘یہ قِیام تعظیمی تھا نہ یہ کہ ان کومَحض مجبوری کی وَجہ سے قِیام کرایا گیا ۔ نیز گھوڑے سے اُتارنے کے لئے ایک دو صاحب ہی کافی تھے (اگر تعظیماً کھڑا ہونا جائزنہ ہوتا تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ) سب کو کیوں  فرمایاکہ کھڑے ہوجاؤ، نیز گھوڑے سے اُتارنے کے لئے تو حاضرینِ مجلسِ پاک میں  سے کوئی بھی چلا جاتا ، خاص اَنصار کو کیوں  حکم فرمایا ؟ تو ماننا پڑے گا کہ یہ قِیام