صَدْرُ الشَّرِیْعَہ، بَدْرُالطَّرِیْقَہ مُفْتی محمد امجد علی اَعْظَمِی علیہ رَحمۃُ اللّٰہ الغنیکا یہ معمول تھا کہ نَمازِ فَجْر کے بعد ایک پارہ کی تلاوت فرماتے اور پھر ایک حِزْب (باب) دَلائِلُ الْخَیْرَات شریف کا پڑھتے ۔ اِس میں کبھی ناغہ نہ ہوتا اور بعدِنَمازِ جُمُعَہ بِلا ناغہ 100 بار دُرُودِ رَضویَّہ (یعنی صَلَّی اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَاٰلِہٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلٰوۃً وَّسَلَامًا عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ) پڑھتے۔ حتّٰی کہ سفر میں بھی جُمُعَہ ہوتا تو نمازِ ظُہْر کے بعد دُرُودِ رَضویَّہ نہ چھوڑتے، چلتی ہوئی ٹرین میں کھڑے ہو کر پڑھتے۔ ٹرین کے مُسافر اِس دِیوانگی پر حیرت زَدَہ ہوتے مگر اِ نہیں کیا معلوم
دیوانے کو تحقیر سے دیوانہ نہ کہنا
دیوانہ بَہُت سوچ کے دیوانہ بنا ہے
(تذکرہ ٔ صدر الشریعۃ، ص۳۳)
کیا کھڑے ہو کر دُرُودِ پاک
پڑھنا واجب ہے؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی کے ذِہن میں یہ وَسوسہ پیداہوسکتا ہے کہ صرف دُرُودوسلام پڑھ لینے سے ہی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے حکم پر عمل ہوجاتاہے تو کیاپھر کھڑے ہوکر پڑھناضروری ہے ؟