بیان نمبر:36
تمام مَخْلُوق کو کِفایت کرنے والا نُور
امیرُ الْمُؤمِنِینحضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِخدا کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خُوش خصال، پیکرِ حُسن و جمال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا فرمانِ بے مثال ہے : ’’مَنْ صَلَّی عَلَیَّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ مِاءَۃَ مَرَّۃٍ،جو شخص روزِ جُمُعہ مجھ پر سو بار دُرُود ِ پاک پڑھے‘‘’’ جَاءَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَعَہُ نُوْرٌ،جب وہ قیامت کے روز آئے گا تو اُس کے ساتھ ایک ایسا نور ہوگا‘‘ ’’لَوْ قُسِّمَ ذَلِکَ النُّوْرُ بَیْنَ الْخَلْقِ کُلِّہِمْ لَوَسَعَہُمْ ،کہ اگر وہ نُور پوری مَخلُوق میں بھی تقسیم کردیا جائے تو سب کے لئے کافی ہو جائے۔‘‘ (حلیۃ الأولیاء، ۸/ ۴۹،حدیث:۱۱۳۴۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں بھی چاہیے کہ ہم فُضُول گُفْتگُو میں مَشغول رہنے کے بجائے اپناتمام تر وَقت سلطانِ بَحرو بَر،دو جہاں کے تاجْوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ اَطہر پر دُرُود وسلام پڑھنے کے لئے مختص کردیں ، ہمارے اسلافِ کرام رَحِمہُمُ اللّٰہُ السَّلام کا طریقہ بھی یہی رہا ہے کہ وہ اس عَظِیم کام کے لیے کچھ نہ کچھ وَقت مُقرَّر فرما لیاکرتے تھے، پھر سَفرہویا حَضر چاہے کیسی ہی صُعُوبت ومَصرُوفیت ہوتی وہ اپنے معمول کوہر گز ترک نہ فرماتے جیساکہ