Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
349 - 645
 سُود۔ ‘‘اور پھر اِرشاد فرمایا : ’’تم ہوتے ہو کون؟ بندے ہو سرِبندگی خَم کرو۔ حُکْم سب کو دئیے جاتے ہیں  حِکْمَتیں  بتانے کے لئے سب  نہیں   ہوتے ۔ آج دُنیا بھر کے مَمالِک میں  کسی کی مَجَال ہے کہ قانونِ مُلْکِی کی کسی دَفْعَہ پر حرْف گِیری کرے کہ یہ بیجا ہے ، یہ( ایسا) کیوں  ہے ؟ (اسے ) یوں  نہ چاہئے ، یوں  ہونا چاہئے تھا ۔ جب جھوٹی فانی (اور) مَجازی سلطنتوں  کے سامنے چُون وچرا کی مَجَال  نہیں   ہوتی تو اس مَلِکُ الْمُلُوک، بادشاہِ حقیقی، اَزَلی، اَبَدی کے حُضُور کیوں  اور کس لئے، کا دم بھرنا کیسی سخْت نادانی ہے۔ ‘‘(فتاویٰ رضویہ، ۱۷/۳۵۹ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اے ہمارے پیار ے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں  سُود کی نُحوست سے بچتے ہوئے رزقِ حلال کمانے کی توفیق عطا فرما اور اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ اطہر پر زیادہ سے زیادہ دُرُودِ پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرما ۔ 
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فرمانِ مصطفٰے
 غُصّہ ایمان کو اس طرح خراب کرتاہے جس طرح اَیلوا(یعنی ایک کڑوے دَرَخت کاجماہوارَس )شہد کو خراب کردیتاہے ۔(شعب الایمان ،۶/۳۱۱،حدیث: ۸۲۹۴)