Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
348 - 645
وَاٰلِہٖ وسلَّم کا اِرشاد مانتا ہے تو ذرا گریبان میں  مُنہ ڈال کر پہلے سوچ لے کہ اس پیسہ کا نہ ملنا قَبول ہے یا اَپنی ماں  سے سَتَّر سَتَّر بار زنا کرنا ۔‘‘ مزید فرماتے ہیں  :  ’’سود لینا حرام قَطْعِی و کبیرہ و عظیمہ ہے۔‘‘	 (فتاویٰ رضویہ، ۱۷/ ۳۰۷ )
	اِس پُر فتن دور میں  بعض اَفراد سُود کے بارے میں  بَہُت کلام کرتے ہیں  اور طرح طرح سے سُودی مُعَامَلات میں  راہیں  نکالنے کی کوشش کرتے ہیں  ۔ کبھی کہتے ہیں  کہ سُود کی اِتنی سَخْت رِوایات اور وعیدوں  کی کیا حکمت ہے ؟ کبھی کہتے ہیں  : ’’اگر سُودی کاروبار بند کردیں  گے توبَینَ الاقوامی منڈی میں  مُقَابَلہ کیسے کر سکیں  گے ؟ ‘‘ کبھی کہتے ہیں  : ’’دوسری قوموں  سے پیچھے رہ جائیں  گے اور کبھی اِنتہائی کم شرْحِ سُود کی آڑ لے کر لوگوں  کو اُکساتے ہیں  ، طرح طرح کی بَد ترین راہیں  کھولنے کی کوشش کرتے ہیں  ۔‘‘ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اَہلسنَّت، مُجدِّدِ دین و مِلَّت ، پروانۂ شَمْعِ رِسالت، مولانا شاہ اِمام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرََّحْمٰن فتاویٰ رضویہ شریف میں  فرماتے ہیں  کافروں  نے اِعتراض کیا تھا:’’ اِنَّـمَا الْبَـیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا (بیشک بَیْع بھی تو سود کی مِثْل ہے ۔) تم جو خرید و فَرُوخْت کو حلال اورسُود کو حرام کرتے ہو اِن میں  کیا فرْق ہے ؟ بَیْع  میں  بھی تونَفْع لینا ہوتا ہے! یہ اِعتراض نَقْل کرنے کے بعد اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتْ نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ فرمان نَقْل کیا :’’ وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا(پ۳، البقرہ:۲۷۵) یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے حلال کیبَیْع اور حرام کیا