Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
347 - 645
عادی ہوا تو وہ کسی کو قرضِ حسن سے امداد پہنچانا گوارا  نہیں   کرتا ۔(۴) سُودسے انسان کی طبیعت میں  درندوں  سے زِیادہ بے رحمی پیدا ہوتی ہے اور سُود خوار اپنے مدیون (مقروض)کی تباہی و بربادی کا خَواہش مند رہتا ہے اس کے علاوہ بھی سُود میں  اور بڑے بڑے نُقصان ہیں  اور شریعت کی مُمانَعَت عین حکمت ہے مُسلم شریف کی حدیث میں  ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے سُود خوار اور اس کے کار پرداز اورسُودی دستاویز کے کاتب اور اس کے گواہوں  پر لعنت کی اور فرمایا وہ سب گُناہ میں  برابر ہیں  ۔ 
	یاد رکھیے ! سودکا مال دُنیا وآخرت میں  مَحض باعثِ وَبال ہے اور اس کا کھانا ایسا ہی ہے جیسے اپنی ماں  سے زِنا کرنا۔ چنانچہ
سُود کے ستَّردَروازے
	مَکِّی مَدَنی سلطان ،نبیِّ آخر الزّمان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’ اَلرِّبَا سَبْعُوْنَ بَابًا اَدْنَاہَا کَالَّذِیْ یَقَعُ عَلٰی اُمِّہٖ‘‘یعنی سُود کے ستَّر دروازے ہیں  ، اِن میں  سے کم تر ایسا ہے جیسے کوئی اَپنی ماں  سے زِنا کرے ۔‘‘ (شعب الایمان،باب فی قبض الیدعلی الاموال، ۴/۳۹۴،حدیث:۵۵۲۰ )
	میرے آقا اَعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مجدِّدِ دِین و مِلَّت مولانا شاہ امام احمدرضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰناِس حدیثِ پاک کو نَقْل کرنے کے بعد لکھتے ہیں  : ’’تو جو شخص سُود کا ایک پیسہ لینا چاہے اگر رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ