حصہ۱۱، ص۷۶۸) ہمیں کیا معلوم اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کا غَضَب کس گُناہ کے سبب نازِل ہوجائے، ہمیں ہر گناہ سے بچتے رہنا چاہیے ۔ سودی کاروبار اور سودی لین دین کی وجہ سے اگر اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ناراض ہو گیا، اُس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمروٹھ گئے اور عذاب نے آلیا تو کیا کریں گے ؟
گرتو ناراض ہوامیری ہَلاکت ہوگی
ہائے میں نارِ جہنَّم میں جلوں گایارب!
(وسائلِ بخشش،ص۹۱)
سُود کی خَرابیاں
حضرتِ صدر ا لْافاضِل مولانا سیِّدمحمد نعیم ُالدِّین مُراد آبادی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْہَادِی خَزائنُ العرفان میں پارہ 3 ، سُوْرَۃُ الْبَقَرۃ آیت نمبر 275 کے تَحت سُود کی حُرمت اور سُود خوروں کی شامت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : سُود کو حرام فرمانے میں بہت حکمتیں ہیں بعض ان میں سے یہ ہیں :(۱)سُود میں جو زِیادتی لی جاتی ہے وہ مُعاوَضۂ مالیہ میں ایک مقدارِ مال کا بغیر بدل وعِوض کے لینا ہے یہ صریح نااِنصافی ہے ۔(۲) سُود کا رواج تجارتوں کوخَراب کرتا ہے کہ سُود خوار کو بے محنت مال کا حاصل ہونا تِجارت کی مشقتوں اور خطروں سے کہیں زیادہ آسان معلوم ہوتا ہے اورتِجارتوں کی کمی انسانی مُعاشرت کوضَرر پہنچاتی ہے ۔ (۳) سُود کے رواج سے باہمی مَوَدَّت کے سُلوک کونُقصان پہنچتا ہے کہ جب آدمی سُود کا