عَزَّوَجَلَّکا شکْر ادا کیا۔ پھر والد صاحِب کی تَکْفِیْن و تَدْفِیْنکے بعد کچھ وَقْت قَبْر کے قریب بیٹھ گیا۔ اتنے میں غَیْب سے آواز آئی: کہ تیرے والد پر یہ عِنایت صرف رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِ پاک پڑھنے کی بدولت کی گئی ہے۔اِس کے بعد میں نے قَسَم اٹھائی کہ کسی حالت میں دُرُود و سلام ترْک نہ کروں گا ۔ (القول البدیع، الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ…الخ،ص۴۴۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں ہرگز اس خیال میں نہیں رہنا چاہئے کہ جتنے گُناہ کرنے ہیں کرلو ،خواہ ساری زِندگی سُود کی کمائی کھاتے رہو، حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو رَحْمَۃُ لِّلْعَالَمِین ہیں آپ پر دُرُود پڑھنے کے سبب نَجات مل جائے گی اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مُعاف فرمادے گا ۔
یقینا حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رَحْمَۃُ لِّلْعَالَمِین، شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن ہیں لیکن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے ہم پر کچھ اَحکام نازل فرمائے ہیں جن کی پاسداری کرنا ہم پر فرض ہے ۔ سود قَطْعِی حرام اور جَہَنَّم میں لے جانے والا کام ہے ۔ اس کی حُرْمَت کا مُنکِر ، کافر اور جو حرام سمجھ کر اِس بیماری میں مُبْتَلا ہو ، وہ فاسق اور مردُودُ الشَّہَادَۃ ہے ۔ (یعنی اس کی گواہی قَبول نہیں کی جائے گی) (بہار شریعت، ج۲،