کچھ دیر بعد دیکھا تو ان کا چہرہ گدھے کی شَکْل میں تبدیل ہوگیا تھا، جب میں نے یہ کَیْفِیَّت دیکھی تو بَہُت پریشان ہوااور اِسی حالت میں مجھے اُونگھ آگئی، کیادیکھتاہوں کہ ایک صاحِب میرے والد کے پاس تشریف لائے اُن کا چہرہ دیکھ کر مجھ سے کہنے لگے: ’’کیا اِسی وجہ سے تم غمگین ہو؟‘‘ پھرفرمایا:’’ تجھے مُبارک ہو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے تیرے والد کی تکلیف دُور کردی ۔‘‘اس پر میں نے والد صاحِب کا چِہرہ دیکھا کہ چاند کی طرح روشن تھا۔ میں نے اُس ہستی سے پوچھا : ’’آپ کون ہیں ؟‘‘ اُنہوں نے جواب دیا:’’ میں تُمہارا نبی محمد مُصْطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہوں ۔ یہ سن کر میں نے دامنِ اَقْدَس تھام کر اَصْل حقیقت کے بارے میں پوچھا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’تیرا والدسُود کھاتا تھااور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا حُکْم ہے کہ جو سود کھائے گااس کی شَکْل دنیا میں مرتے وَقْت یا آخرت میں گدھے کی طرح بنادے گا لیکن تیرے والد کی یہ عادت تھی کہ سونے سے پہلے ہر رات مجھ پر سو مرتبہ دُرُود بھیجتا تھا۔ جب وہ اِس تکلیف میں مُبْتَلا ہوا تو میری اُمَّت کے اَعمال مجھ پر پیش کرنے والا فِرِشتہ میرے پاس آیا اور مجھے تیرے والد کی حالت کے بارے میں بتایا، میں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے اِس کی سِفَارِش کی تو میری سِفَارِش اِس کے حق میں مقبول ہوگئی۔‘‘ وہ شخص کہتا ہے: پھر میں بیدار ہوگیا، والد صاحِب کا چِہْرہ دیکھا تو واقعی وہ چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا۔ میں نے اللّٰہ