اُونٹ کی گواہی
حضرت سَیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہُ سے مروی حدیثِ پاک کا مَفہوم ہے کہ ایک اَعرابی اپنے اُونٹ کی نکیل تھامے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضِر ہوا اور سلام عَرْض کیا:آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ’’صبح صبح کیسے آنا ہو ا؟ ‘‘اِسی اَثنا میں اُونٹ بَلْبلایا (یعنی آواز نکالی) پھر ایک دوسراشخص آیا گویا کوئی مُحافِظ ہو اور عَرْض کی: ’’یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! اِس اَعرابی نے یہ اُونٹ چُرایا ہے۔‘ ‘ اُونٹ دوبارہ غم سے بَلْبلایا تو رسولِ اَکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اِس کی فریادسننے لگے،جب اُونٹ خاموش ہوا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مُحافِظ کی طرف مُتَوَجِّہ ہوکر فرمایا: ’’اُونٹ نے تیرے جھوٹے ہونے کی گواہی دی ہے۔‘‘ اس پر وہ شخص چلاگیا ،پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اَعرابی سے اِسْتِفْسَار فرمایا:تم نے میرے پاس آنے سے پہلے کیا پڑھا تھا ؟‘‘ اُس نے عَرْض کی: ’’میرے ماں باپ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر قربان! میں نے یہ پڑھاتھا:
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍٍ حَتّٰی لَا تَبْقٰی صَلٰوۃٌ
اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر بے حد دُرُود بھیج۔