دُرُدوسلام بھیجنے کو وظِیفہ بنالیتے ہیں اور لوگوں کو بھی دُرُودپاک پڑھنے کی ترغیب دِلاتے ہیں ، زِندَگی بھر سرکارِمدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عَظْمَتو مَحَبَّت کا دَرس دیتے ہیں اور لوگوں کو عشقِ رسُول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رَنگ میں رَنگ دیتے ہیں ، جب وہ اَہلِ دُرُود اور اَہلِمَحَبَّت اس دُنیائے فانی سے عالَمِ جاوِدانی کی طرف سَفر کرتے ہیں تو اُن پر کیسا کرم ہوتا ہے، آئیے اس کی ایک جھلک مُلاحَظَہ فرمائیے۔
قَبْرسے مُشْک کی خُوشبُو!
حضرتِ سَیِّدُنا ابُوعَبْدُاللّٰہ مُحمَّدبن سُلیمان اَلجُزُوْلی عَلَیْہ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے دُرُود شریف کی بہت ہی جامع کِتاب بنام ’’دَلائِلُ الْخَیْرات‘‘ لکھی ہے جو بہت ہی مشہور اور اَہلِ مَحَبَّت میں کافی مَقبول ہے۔ چُنانچہ صاحب ِ’’مَطَالِعُ الْمَسَرَّات‘‘ لکھتے ہیں : ’’یہی وہ حضرتِ شیخ جزولی ہیں جن کے مُتعلِّق یہ بات پایۂ ثُبوت تک پہنچ چُکی ہے کہ آپ کی قبرِ اَنور سے کستُوری (یعنی مُشک ) کی خُوشبُو مَہکتی تھی کیونکہ آپ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنی زِندگی میں دُرُودِپاک بہت زِیادہ پڑھا کرتے تھے۔‘‘ (مطالع المسرات مترجم،ص۵۴)
77 سال بعد بھی جِسم سَلامَت
آپ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِکے وصال کے ستتر(۷۷)سال کے بعد آپ