Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
338 - 645
اس کی ترغیب دلاتے ہیں  ، زِندگی بھر لوگوں  کو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عَظْمَت ومَحَبَّتکے جام بھر بھر کے پلاتے ہیں  اور عشقِ رَسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رنگ میں  رَنگ دیتے ہیں  ، جب وہ اہلِ دُرُود اور اہلِ مَحَبَّت اس دُنیائے فانی سے عالَمِ جاوِدانی کی طَرَف سَفَر کرتے ہیں  تو بعدِ وصال ایسی عجیب اور ایمان اَفروز بشارتیں  نصیب ہوتی ہیں  کہ دیکھنے والے انکی قِسمت پر رَشک کرتے ہیں  ۔ کسی کی تُربَتِ اطہر خُوشْبُو سے مہَک اُٹھتی ہے تو کسی کے جَنازَہ پر اَبرِرَحمت انوار کی بارشیں  برساتے ہیں  اور کہیں  مَلائکہ کرام جَنازَہ میں  قِطار در قِطارنظر آتے ہیں  ۔ اسی مضمون کی عکاسی کرتی ہوئی ایک حکایت سنئے ۔ چنانچہ 
جَنازہ میں  فِرشْتَوْں  کا نُزُول 
	حضرتِ سیِّدُنا سَہَل تُسْترَی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہالوَلِی کا جب وِصال ہوا تو ایک شور برپا ہوگیا ۔ آپ  رَحْمَۃُ اللّٰہتَعالٰی عَلَیْہِکے جَنازئہ مُبارَکہ میں  کثیر تعداد میں  لوگ شریک ہوئے۔ شہر میں  ایک یہودی بھی رہتا تھا جس کی عمر ستر برس سے کچھ زیادہ کی تھی ۔ اُس نے جب شور سُنا تو وہ بھی دیکھنے کے لیے نِکلا ۔ لوگ جَنازہ مُبارَکہ کو اُٹھائے ہوئے جارہے تھے ۔ اُس نے جَنازہ کا جُلُوس دیکھ کر پُکارا : ’’اے لوگو! جو میں  دیکھ رہا ہوں  کیا تُم بھی دیکھ رہے ہو ؟ ‘‘لوگوں  نے پوچھا : ’’تو کیا دیکھ رہا ہے ؟ ‘‘ اُس نے کہا : ’’میں  دیکھ رہا ہوں  کہ آسمان سے اُترنے والوں  کی قِطار لگی ہوئی ہے