Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
336 - 645
 نکالے اور کہا: یہ آپ کی اُس تھکاوٹ کے بدلے میں  ہیں  جو آپ کو ہماری طرف آتے ہوئے برداشت کرنا پڑی ۔ پھر وزیر صاحِب یَکے بعد دِیگرے (نَو مَوْلُوْد کے والِدکے لیے) سو سو دِینار نکالتے رہے حتی کہ ہزار دِینار نکال لیے مگر اُس نے کہا : ’’ میں  صِرْف وہ لوں  گا جن کا مجھے رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حُکْم ارشاد فرمایا ہے۔‘‘ (القول البدیع، الباب الرابع فی تبلیغہ السلام علیہ،وردہ وغیرذلک، ص ۳۲۷)
اُن کے نثار کوئی کیسے ہی رَنج میں  ہو جب یاد آگئے ہیں  سب غم بھلادیئے ہیں 
ہم سے فقیر بھی اب پھیری کو اُٹھتے ہونگے اب تو غَنی کے دَر پر بستر جمادئیے ہیں 
(حدائقِ بخشش،ص۱۰۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ!ہمارے پیارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی گُناہگار اُمت پر کس قَدر شفیق ومہربان ہیں  کہ اگر آپ کا کوئی بھی اُمَّتی کسی پریشانی میں  ہو تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اس کی مَدد فرماتے ہیں  ۔ تو ہمیں  بھی اُمَّتی ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے آپ کی ذاتِ کریمہ پر دُرُودِ پاک پڑھنے میں  کوتاہی  نہیں   کرنی چاہئے اور زِیادہ سے زِیادہ دُرُود شریف پڑھنا چاہئے ورنہ روزِ قیامت حسرت ہمارا مُقدَّر ہوگی ۔ چُنانچہ