کا قاصِد آیا اور تمہیں بُلا کر لے گیا۔ پھر وَاپَس آکر تم نے مجھ پر دُرُود پڑھا حتی کہ تم نے ہزار مرتبہ دُرُود شریف مُکَمَّل کرلیا ۔ اُسے کہنا کہ سو دینار نَو مَوْلُوْد کے والِد کو دے دو تاکہ یہ اپنی ضَرورت پوری کریں ۔‘‘ (خَواب سے بیدار ہونے کے بعد) حضرتِ سیِّدُنا ابُوبَکْر بن مُجاہِدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَاحِداِن کو ساتھ لے کر وزیر کے پاس پہنچ گئے ۔ آپ رَحْمۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِ نے وزیر کو کہا: اِن کو تیری طرف رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھیجا ہے ۔ وزیر کھڑا ہوا اور آپ (یعنی ابوبَکْررَحْمَۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہکو) اپنی جگہ پر بٹھا کر سارا ماجَرا دَرْیافْت کیا ۔ آپ نے وزیر کو پوراواقِعہ بیان کردیا ۔ وزیرخُوش ہوا اور اپنے غُلام کو مال کی تھیلی نکالنے کا حُکْم دیا ۔ پھراِس سے سو دِینار نکال کرنَومَولُود کے والِد کو دے دیئے۔ اِس کے بعد سو دِینار اور نکالے تاکہ حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابُوبَکْررَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو دے مگر آپ نے لینے سے اِنکار کردیا ۔ وزیر نے کہا : حضرت اِس سَچِّی خَبَر کی بِشارَت دینے پر آپ مجھ سے یہ نَذرانہ لے لیں ، یہ مُعَامَلَہ میرے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے درمِیان ایک راز تھا اور آپ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قاصِد ہیں ۔ پھر وزیر نے مزید سو دِینار نکالے اور آپ سے کہا : یہ اِس بِشارَت یعنی خُوشخبری کے سبب لے لیجیے کہ رسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو میرے ہر جُمُعَہ کی رات دُرُودِ پاک پڑھنے کا عِلْم ہے ۔ پھر اِس نے سو دِینار اور