محبوبِ خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صورت ِ مُبارَکہ اور سِیرتِ طَیِّبَہ کومَلْحُوظ رکھا کر اگرچہبَتکلُّف ہی اِس صُورت ِ پاک اور سیرتِ والا صِفات کو پیشِ نظر رکھنا پڑے ۔ بَہُت ہی قلیل عرصے میں تیری رُوح اِس تَصَوُّر کی بدولت ذاتِ پاک ِمُصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مانُوس ہوجائے گی ۔ پس رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ کریم تیرے سامنے موجود ہوگی اور تو اُن کامُشاہَدہ کرے گا اور اُن سے کلام بھی کرے گا اور شَرَفِ خِطاب سے بھی لُطْفْ اَندوز ہوگا ۔‘‘ (مدارج النبوۃ ،۲/۶۲۳ )
کیوں کریں بزمِ شبستانِ جناں کی خَواہش
جلوۂ یار جو شمعِ شبِ تنہائی ہو
(ذوقِ نعت،ص۱۴۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سلطانِ دو جہاں ، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دُرُودِ پاک پڑھنے والے عُشاق سے بے اِنتہا مَحَبَّت فرماتے ہیں اور وقتاً فوقتاً ان پر بارشِ کرم بھی برساتے رہتے ہیں ، کبھی تو بَنفسِ نفیس خود ان کے خَواب میں تشریف لاکر اپنے دِیدارِ پُر بہار سے فَیضیاب فرماتے ہیں ، تو کبھی اپنے چاہنے والوں کو کسی کے ذَرِیعے یہ پیغام ارشاد فرماتے ہیں کہ تم مجھ پر اِتنی اِتنی مِقدار میں روزانہ دُرُودِ پاک پڑھتے ہو جس کو میں خُود سنتا ہوں ، لہذا