Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
332 - 645
ذِکرِ سرکار کے آداب
	بُزُرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہ الْمُبِیْن فرماتے ہیں  :’’ جب بھی ذِکْرِ رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیا جائے تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا تَصَوُّر باندھ کر کیا جائے ۔‘‘مَدارِجُ النَبُوَّت کے تَکْمِلَہ میں  حضرتِ سیِّدُناشیخ عبد الحق عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْحَقّ فرماتے ہیں  : ’’ذِکْرِ رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کرتے  وَقْت اپنے آپ کو بارگاہِ مُصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں  حاضِر خیال کر۔ گویا کہ تو اِن کی ظاہری حیاتِ طَیِّبَہ میں  اِن کے سامنے حاضِر ہے اور آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بُزُرگی ، تعظیم ، رُعْب اور حَیا کی وجہ سے اَدَب کے ساتھ دِیدار کر رہا ہے پس یقینا سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تجھے دیکھتے ہیں  اور تیرے کلام کو سُنتے ہیں  ۔ کیونکہ محبوبِ کِبْرِیا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اَوْصافِ اِلٰہِیَّہ کے مَظْہَر ہیں  اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی صِفَات میں  سے ایک یہ بھی صِفَت ہے ’’اَنَا جَلِیْسُ مَنْ ذَکَرَنِی یعنی میں  اُس کا ہم نَشیں  ہوں  جو مجھے یاد کرے ۔ ‘‘لہٰذا مَدَنی تاجْدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بھی اس صِفَت عُظْمٰی کا مَظْہَر بنایا گیا ہے ۔‘‘ (مدارج النبوۃ ،۲/۶۲۱ )
	چُنَانْچہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی اپنے یاد کرنے والوں  کے ہم نشیں  ہیں  ۔ مزید فرماتے ہیں  : ’’اے بھائی ! میں  تجھے وَصِیَّت کرتا ہوں  کہ ہمیشہ