اُمَّتِیْ‘‘ (اے رَبّ !میری اُمَّت کو بخش دے ) کا شور ہوگا۔ (مسلم،باب ادنی اہل الجنَّۃ منزلۃ فیہا، ص۱۲۶ ، حدیث:۳۲۶ )
لہٰذا مَحَبَّت اور عَقیدت بلکہ مُروَّت کا بھی یہی تقاضا ہے کہ غَمْخوارِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یاد اوردُرُدوسلام سے کبھی غَفْلَت نہ کی جائے۔
جو نہ بھُولا ہم غریبوں کو رضا
ذِکر اُس کا اپنی عادت کیجئے (حدائقِ بخشش ،ص۱۹۸)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہم سے کس قَدرمَحَبَّت فرماتے ہیں کہ ہر وقت اپنی گُناہ گار اُمَّت کی بخشش کے لیے اپنے رَبّ کے حُضُور التجائیں اور دُعائیں کرتے ہیں یقینا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہم پربے شُمار احسانات ہیں ۔ مگر یہ کب مُمکن ہے کہ ہم اُن کا شکریہ ادا کرسکیں ۔ بس اِتنا ہی کریں کہ اُن پردُرُدوسلام کے تُحفے بھیجا کریں یعنی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حق میں دُعائے رَحمت کیا کریں ۔ جیسے فُقرا سخی داتا کو دعائیں دیتے ہیں ۔
شُکر ایک کرم کا بھی اَدا ہو نہیں سکتا
دِل تم پہ فِدا جانِ حسن تم پہ فِدا ہو (ذوقِ نعت، ص۱۴۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
جوخُوش نصیب لوگ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر