شرابی، مُؤَذِّ ن بن گیا
مَہاراشْٹَر(ہند)کے ایک اِسلامی بھائی کے بیان کاخُلاصہ ہے: دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستگی سے قَبْل میں مرضِ عِصْیاں میں اِنتہائی دَرَجے تک مُبْتَلا ہو چکا تھا۔ دن بھر مزدوری کرنے کے بعدجو رَقم حاصل ہوتی رات کو اِسی سے مَعَاذَ اللّٰہَ شراب خرید کرخُوب عَیَّاشی کرتا ، شورشرابا کرتا ، گالیاں تک بکتا اور والدین واہلِ مَحلَّہ کوخُوب تنگ کرتا اِسکے علاوہ میں پَرلے دَرَجے کا جُواری و بے نمازی بھی تھا ۔ اِسی غَفْلَت میں میری زِندگی کے قیمتی اَیَّام ضائع ہوتے رہے۔ آخرکار میری قسمت کا ستارہ چمکا، ہوا یوں کہ خُوش قسمتی سے میری مُلاقات دعوتِ اِسلامی کے ایک ذِمَّہ دار اِسلامی بھائی سے ہوئی۔ اُنہوں نے انتہائی شَفْقت بھرے اَنداز میں اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے مَدَنی قافِلے میں سَفَر کرنے کی ترغیب دلائی تو مجھ سے اِنکار نہ ہوسکا اور میں ہاتھوں ہاتھ تین دن کے مَدَنی قافِلے کامُسافِربن گیا ۔ مَدَنی قافِلے میں عاشِقانِ رسول کی صُحْبَت ملی اور مَکْتبۃُ المدِینہ سے جاری شُدہ رَسا ئل بھی پڑھنے کو ملے۔ جس کی یہ بَرَکت حاصل ہوئی کہ مجھ جیسا پَکّابے نمازی، شرابی وجُواری تائِب ہو کر نہ صِرْف نماز پڑھنے والا بن گیا بلکہ صدائے مَدینہ لگانے اور دوسروں کو مَدَنی قافِلوں کا مسافِر بنانے والا بن گیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میری اِنفرادی کوشش سے