راتیں ایسا شخص ، کھیل کُود، گانے باجے، تاش وشَطرنج ، گپ شپ وغیرہ میں برباد کرتا ہے۔
لَمحۂ فِکرِیہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خُدا را اپنے حالِ زار پر تَرس کھایئے اور غور فرمایئے! کہ روزہ دارماہِ رَمَضانُ المُبارَک میں دن کے وَقت کھاناپینا چھوڑ دیتاہے حالانکہ یہ کھانا پینا اِس سے پہلے دِن میں بھی بِالکل جائِز تھا ۔ پھر خُود ہی سوچ لیجئے کہ جو چیزیں رَمَضان شریف سے پہلے حَلال تھیں وہ بھی جب اِس مُبارَک مہینے کے مُقَدَّس دِنوں میں مَنْع کردی گئیں ۔ تو جو چیزیں رَمَضانُ الْمُبارَک سے پہلے بھی حرام تھیں ، مَثَلاً جُھوٹ ، غِیبت ، چغلی ، بد گمانی ، گالم گلوچ، فلمیں ڈِرامے ، گانے باجے، بَد نگاہی، داڑھی مُنڈانا یا ایک مُٹھی سے گھٹانا، والِدین کو ستانا ، بِلا اجازتِ شَرعی لوگوں کا دل دُکھانا وغیرہ وہ رَمَضانُ المبارَک میں کیوں نہ اور بھی زیادہ حَرام ہوجائیں گی؟ روزہ دار جب رَمَضانُ المبارَک میں حلال وطیِّب کھانا پینا چھوڑدیتا ہے ، حَرام کام کیوں نہ چھوڑے ؟ اب فرمائیے ! جو شخص پاک اور حلال کھانا، پینا تو چھوڑ دے لیکن حرام اور جہنَّم میں لے جانے والے کام بدستُور جاری رکھے ۔ وہ کس قسم کا روزہ دار ہے؟ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی حاجت نہیں ۔ چنانچہ