Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
325 - 645
 روزہ دار بھی ماہِ رَمَضان کی بے حُرمتی کرکے َقہرِقَہّا ر اور غَضبِ جبّار کا شِکار ہوکر عذابِ نار میں  گَرِفتار ہوجاتے ہیں  ۔ 
دل پر ایک سیاہ نُقطہ 
	یادرکھئے ! حدیثِ مُبارَک میں  آتا ہے ، جب کوئی انسان گُناہ کرتا ہے تو اُس کے دل پر ایک سیاہ نُقطہ بن جاتا ہے، جب دوسری بار گُناہ کرتا ہے تو دُوسرا سِیاہ نُقطہ بنتا ہے یہاں  تک کہ اُس کادِل سِیاہ ہوجاتا ہے ۔ نتیجۃً بَھلائی کی (کوئی ) بات اُس کے دِل پر اثر انداز  نہیں   ہوتی ۔ (درمنثور،پ۳۰،المطففین،تحت الآیۃ:۱۴، ۸ /۴۴۶)
اب ظاہِر ہے کہ جس کا دِل ہی زَنگ آلُودا ور سیاہ ہوچُکاہو اُس پر بَھلائی کی بات اور نصیحت کہاں  اثر کرے گی؟ ماہِ رَمَضان ہویا غیرِ رَمَضان ایسے انسان کا گُناہوں  سے باز و بیزار رہنا نِہایت ہی دُشوار ہوجاتا ہے ۔ اُس کا دِل نیکی کی طرف مائِل ہی  نہیں   ہوتا۔ اگروہ نیکی کی طرف آبھی گیا تو بسا اَوقات اُس کا جِی اِسی سِیاہی کے سَبَب نیکی میں   نہیں   لگتا اور وہ سنَّتوں  بھرے مَدَنی ماحَول سے بھاگنے ہی کی تدبیریں  سوچتا ہے۔اُس کا نَفْس اُسے لمبی اُمّیدیں  دِلاتا ، غَفْلَت اُسے گھیر لیتی اور یوں  وہ بد نصیب سُنتَّوں  بھرے مَدَنی ماحَول سے دُور ہوجاتا ہے ۔ ماہِ رَمَضان کی مُبارَک ساعَتیں  بلکہ بسا اوقات پوری پوری