تواگلے رَمَضان تک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور جتنے آسمانی فِرِشتے ہیں سب اُس پر لعنت کرتے ہیں ۔ پس اگر یہ شخص اگلے ماہ ِ رَمَضان کو پانے سے پہلے ہی مرگیا تو اس کے پاس کوئی ایسی نیکی نہ ہوگی جو اسے جہنَّم کی آگ سے بچاسکے۔ پس تم ماہِ رَمَضان کے مُعامَلے میں ڈرو کیونکہ جس طرح اِس ماہ میں اور مہینوں کے مُقابلے میں نیکیاں بڑھا دی جاتی ہیں اِسی طرح گُناہوں کا بھی مُعامَلہ ہے ۔ (معجم صغیر،من اسمہ عبدالملک ، ص۲۴۸،حدیث:۱۴۸۸)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! لرز اُٹھئے! اورماہِ رَمَضان کی ناقَدری سے بچنے کا خُصُوصیَّت کے ساتھ سامان کیجئے ۔ اس ماہِ مبارَک میں دوسرے مہینوں کے مقابَلے میں جس طرح نیکیاں بڑھادی جاتی ہیں اِسی طرح دیگر مہینوں کے مقابَلے میں گُناہوں کی ہَلاکت خَیزیاں بھی بڑھ جاتی ہیں ۔ ماہِ رَمَضان میں شراب پینے والا اور زِنا کرنے والا تو ایسا بد نصیب ہے کہ آئندہ رَمَضان سے پہلے پہلے مرگیا تو اب اس کے پاس کوئی نیکی ایسی نہ ہوگی جو اسے جہنَّم کی آگ سے بچا سکے ۔ یاد رہے ! آنکھوں کا زِنا بَدنگاہی، ہاتھوں کا زِنا اَجْنبیہ کو(یا شہوت کے ساتھ اَمْرَد کو) چُھونا ہے۔ لہٰذا خبردار ! خبردار! خبردار! ماہِ رَمَضان میں بالخصوص اپنے آپ کو بدنِگاہی اور اَمْرَد بِینی سے بچائیے ۔ حتَّی الامکان آنکھوں کا قُفلِ مدینہ لگا لیجئے یعنی نگاہیں نیچی رکھنے کی بھرپور سعی کیجئے۔ آہ! صد ہزار آہ!بَسا اوقات نَمازی اور