Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
323 - 645
کے فِرِشتوں  کے عِلاوہ ہوتے ہیں  ۔ یہ بیس فِرِشتے ہر آدمی پر مُقرَّر ہیں۔(تفسیرالطّبری،پ۱۳،الرعد،تحت الآیۃ،۱۱،۷/۳۵۰،حدیث:۲۰۲۱۱)
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے مُقرَّر کردہ معصوم فِرِشتے ہماری اچھی بُری ہر بات لکھتے ہیں  لیکن مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں  اس کی بالکل پروا  نہیں   ہوتی ۔ عام دنوں  میں  تو گُناہوں  کاسلسلہ جاری ہی رہتاہے مگر جب رَمَضان ُالمبارک کامُقدَّس مہینہ تشریف لاتاہے توہم بد قسمتی سے اس کا اِحتِرام  نہیں   کرتے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا و خُوشنودی والے کام کرنے کے بجائے روزے کی حالت میں  بھی اپنے قیمتی لمحات کوفُضُولیَّات میں  برباد کردیتے ہیں  یقینا یہ ذِلَّت و رُسوائی اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی ناراضی کا سبب ہے ۔چُنانچہ 
حُقُوقِ رَمَضان سے مُتَعلِّق نَصیحتیں 
	حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ ہانی رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہاسے روایت ہے کہ دوجہاں  کے سلطان ، شَہَنشاہِ کون و مکان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبرت نشان ہے : ’’میری اُمَّت ذَلیل و رُسوا نہ ہوگی جب تک وہ ماہِ رَمَضان کا حق ادا کرتی رہے گی ۔ ‘‘عرض کی گئی: یارسولَاللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! رَمَضان کے حق کو ضائع کرنے میں  ان کا ذَلیل و رُسوا ہونا کیا ہے؟ فرمایا ، اِس ماہ میں  انکا حرا م کاموں  کا کرنا ، پھر فرمایا: جس نے اِس ماہ میں  زِنا کیا، یا شراب پی