Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
321 - 645
بیان نمبر:33
ہونٹوں  پر مُتَعَیَّن فِرِشتے
	اَمیرُالْمُؤمِنِین ذُوالنُّورَین حضرتِ سیِّدُنا عُثمان بن عَفّان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نبیوں  کے سُلطان ، رَحمتِ عالَمِیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدمتِ والا شان میں  حاضر ہو کر عَرْض گزار ہوئے: ’’یارسُولَاللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !مجھے بتائیے کہ بندے کے ساتھ کتنے فِرِشتے ہوتے ہیں  ؟ ‘‘سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا : اے عثمان ! ایک فِرِشتہ تیری دائِیں  (سیدھی) طرف ہے جو تیری نیکیوں  پر مامور ہے اور یہ بائیں  (اُلٹی) طرف والے فِرِشتہ کا اَمین ہے ۔ جب تم ایک نیکی کرتے ہو تو اس کی دس نیکیاں  لکھی جاتی ہیں  ، جب تم کوئی گُناہ کرتے ہو تو بائیں  (اُلٹی) طرف والا فِرِشہ دائیں (سیدھی) جانب والے فِرِشتے سے پوچھتا ہے : ’’(کیا) میں  (اس کا یہ گناہ) لکھ لوں ؟ ‘‘تو وہ کہتا ہے: ’’ نہیں   ، شاید یہ (اپنے گُناہ پر) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے اِستِغفار کرے اور توبہ کرے ۔‘‘ تو جب بائِیں  طرف والا فِرِشتہ تین مرتبہ گناہ لکھنے کی اِجازت مانگتا ہے تو( دائیں  طرف والا) کہتا ہے : ہاں  (اَب لکھ لو) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں  اِس سے محفوظ رکھے ۔ یہ کیسا بُرا ساتھی ہے ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کیمُتَعلِّق کتنا کم سوچتا ہے اورہم سے کس قَدَر کم حیا کرتا ہے۔