Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
32 - 645
’’یَااُمَّ ہَانِیْ اِنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَام اَخْبَرَنِیْ فِیْ مَنَامِیْ اَنَّ رَبِّیْ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَہَبَ لِیْ اُمَّتِیْ کُلَّہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘‘اے اُمِّ ہانی! جِبریل (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے مُجھے سوتے میں  خَبر دی کہ میرا رَبّ قیامت کے دن میری ساری اُمَّت (کامعاملہ ) میرے سِپُرد کردے گا۔‘‘(تفسیرمقاتل،۲/۹ ۳۴)
’’رَبِّ ھَبْ لِی اُمَّتِی‘‘کہتے ہوئے پیدا ہوئے
حق نے فرمایا کہ بخشا ’’الصَّلٰوۃُ والسَّلام ‘‘(قبالۂ بخشش ،ص۹۴)
اِسی طرح رَحمتِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسفرِمِعراج پر روانگی کے وقت اُمَّت کے عاصِیوں  کو یاد فرما کر آبدیدہ ہوگئے، دیدارِ جمال خداوندی عَزَّوَجَلَّاور خصُوصی نواز شات کے وقت بھی گُنہگارانِ اُمَّت کو یاد فرمایا ۔ (بخاری، کتاب التوحید،باب قولہ تعالٰی وکلم اللّٰہ موسٰی تکلیمًا،۴/ ۵۸۱، حدیث:۷۵۱۷ مفہوماً) عُمر بھر(وقتافوقتا) گُنہگارانِ اُمَّت کے لیے غمگین رہے۔ (مسلم، باب دعاء النبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّملامتہ وبُکائہ شفقۃ علیہم،ص۱۳۰،حدیث:۳۴۶ مفہومًا) جب قَبر شریف میں  اُتارا لبِ جاں  بخش کو جُنْبِش تھی ،بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوان نے کان لگا کرسُنا، آہستہ آہستہ اُمَّتِیْ (میری اُمَّت) فرماتے تھے۔ 
قِیامت میں  بھی اِ نہیں   کے دامن میں  پناہ ملے گی، تمام اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامسے ’’نَفْسِی نَفْسِی اِذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِی‘‘(یعنی آج مجھے اپنی فکر ہے کسی اور کے پا س چلے جاؤ )سُنو گے اوراس غَمْخوارِ اُمَّت کے لب پر ’’یَارَبِّ اُمَّتِیْ