جو نہ بھُولا ہم غریبوں کو رضا
ذِکْر اُس کا اپنی عادت کیجئے
(حدائقِ بخشش،ص۱۹۸)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہم سے اس قدر مَحَبَّت فرماتے ہیں تو ہماری عَقیدت بلکہ مُرَوَّت کا بھی یہی تقاضا ہوناچاہئے کہ غمخوارِ اُمَّتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی یاد اور دُرُود وسلام سے کبھیغَفْلَت نہ برتی جائے ۔
حضرتِ سیِّدُناحافظ رشید عطَّارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَفَّار اَشعار کی صورَت میں فرماتے ہیں :
اَلاَ اَیُّہَا الرَّاجِی الْمَثُوْبَۃَ وَالْاَجْرَ وَتَکْفِیْرَ ذَنْبٍ سَالِفٍ اَنْقَضَ الظَّہْرَا
عَلَیْکَ بِاِکْثَارِ الصَّلَاۃِ مُوَاظِباً عَلٰی اَحْمَدَالْہَادِیْ شَفِیْعِ الْوَرٰی طُرًّا
’’یعنی اے اَجْر وثواب اور اُس گُزَشْتَہ گناہ کی تلافی کی اُمید رکھنے والے جس نے (تیری) کمر توڑدی ہے، سن لے! تجھ پر لازم ہے کہ اُس ذاتِ گرامی پرہمیشہ کثرت سے دُرُود بھیج جن کا نام اَحمد ہے، اِنسانِیَّت کے ہادی اور تمام مخلوق کے شفیع ہیں ۔ ‘‘(القول البدیع ،خاتمۃ الباب الثانی ،الفصل الاول،ص۲۸۴)
ٹوٹ جائیں گے گُنہگاروں کے فوراً قید و بند
حَشْر کو کھل جائے گی طاقت رسولُ اللّٰہ کی
(حدائقِ بخشش،ص۱۵۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد