اُمَّت کے عاصیوں کو یاد فرما کر آبْدِیدہ ہوگئے۔دیدارِ جمالِ خداوندی عَزَّوَجَلَّاور خُصُوصی نوازشات کے وَقْت بھی گُنہگارانِ اُمَّت کو یاد فرمایا۔ عُمر بھر گنہگارانِ اُمَّت کے لیے غمگین رہے۔
مَدارِجُ النُّبُوَّۃ میں ہے: حضرتِ سیِّدُنا قُثَم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وہ شخص تھے جو آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو قَبْرِ اَنور میں اُتارنے کے بعد سب سے آخِر میں باہَر آئے تھے ۔ چُنانچِہ اُن کا بیان ہے کہ میں ہی آخِری شخص ہوں جس نے حُضُورِ اَنْوَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا رُوئے مُنوَّر ، قَبْر اَطہر میں دیکھا تھا ۔ میں نے دیکھا کہ سلطانِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قَبْر اَنور میں اپنے لَبْہَائے مبارَکہ کو جُنبِش فرما رہے تھے ۔ (یعنی مبارَک ہونٹ ہل رہے تھے ) میں نے اپنے کانوں کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے دَہَن (یعنی منہ)مبارَک کے قریب کیا ، میں نے سنا کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کہہ رہے تھے : ’’ رَبِّ اُمَّتِی اُمَّتِیْ۔‘‘ (یعنی اے میرے پروَردْگار! میری اُمّت میری اُمّت)۔ (مدارج النبوۃ،۲/۲۴۴)
فرمانِ مصطَفٰیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :’’ جب میری وفات ہو جائے گی تو اپنی قَبْرمیں ہمیشہ پکارتا رہوں گا ،یا رَبِّ اُمَّتِی اُمَّتِی یعنی اے پروَردگار! میری اُمَّت میری اُمَّت ،یہاں تک کہ دوسرا صُور پھونکا جائے۔‘‘(کنز العمال ،کتاب القیامۃ، ۷/۱۷۸،حدیث:۳۹۱۰۸ )