Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
317 - 645
 ہے۔ یقینا سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر دُرُود و سلام بھیجنے کے بے شُمار فَضائل و بَرَکات ہیں  جن کو بیان کرنا ممکن  نہیں   ۔دُرُود شریف کے فَضائل میں  بے شُمار کُتُب تصنیف کی جاچکی ہیں  ، اس کے فضائل وثَمَرَات اکثر مُبَلِّغین بیان کرتے رہتے ہیں  ۔ قَلَم کی روشنائی تو خَتْم ہوسکتی ہے، بیان کے الفاظ بھی خَتْم ہوسکتے ہیں  مگر فضائلِ دُرُود و سلام بَرْ خَیْرُ الاَ نَام کا اِحاطہ  نہیں   ہو سکتا ۔ دن ہو یا رات ہمیں  اپنے مُحسن وغمگُسار آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر دُرُود و سلام کے پُھول نِچھاور کرتے ہی رہنا چاہیے۔ اِس میں  کوتاہی  نہیں   کرنی چاہیے کیونکہ سرکار ِمدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ہم پر بے شُمار اِحسانات ہیں  ۔ بطنِ سیّدہ آمِنہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسے دُنیائے آب و گِل میں  جلوہ اَفروز ہوتے ہی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے سجدہ فرمایا اور ہونٹوں  پر یہ دُعا جاری تھی:  ’’ رَبِّ ھَبْ لِی اُمَّتِییعنی پروَردگار عَزَّوَجَلَّ!میری اُمَّت میرے حوالے فرما۔ ‘‘
	امام زرقانی قُدِّسَ سرُّہُ الرَّباّنی نَقْل فرماتے ہیں  :’’ اُس وَقْت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُنگلیوں  کو اِس طرح اُٹھا ئے ہوئے تھے جیسے کو ئی گِرْیَہ وزاری کرنے والا اُٹھا تا ہے۔ ‘‘ 						(زرقانی علی المواہب،ذکرتزویج عبداللّٰہ آمنۃ،۱ / ۲۱۱)
رَبِّ ھَبْ لِی اُمَّتِیکہتے ہوئے پیدا ہوئے
حق نے فرمایا کہ بخشا  اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلام
   (قبالہ ٔ بخشش ،ص۹۴)
	رَحمتِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسَفَرِمعراج پر رَوانگی کے وَقْت