رَحمتوں کی بارش برساتے ہیں ۔ یہاں ایک سُوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اللّٰہ عَزَّوَجَلََّّ خود ہی رَحمتیں نازل فرمارہا ہے تو ہمیں دُرُود شریف پڑھنے یعنی رَحمت کے لیے دُعا مانگنے کا کیوں حُکْم دیا جارہا ہے کیونکہ مانگی وہ چیز جاتی ہے جو پہلے سے حاصل نہ ہو، تو جب پہلے ہی سے رَحمتیں اُتر رہی ہیں پھر مانگنے کا حُکْم کیوں دیا؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ کوئی سُوالی کسی دروازہ پر مانگنے جاتا ہے تو گھر والے کے مال و اَولاد کے حق میں دُعائیں مانگتا ہوا جاتا ہے۔ سخی کے بچے زِندہ رہیں ، مال سلامت رہے ، گھر آباد رہے وغیرہ وغیرہ۔ جب یہ دُعائیں مالکِ مکان سنتا ہے تو سمجھ جاتا ہے کہ یہ بڑ ا مُہَذَّب سُوالی ہے۔ بھیک مانگنا چاہتا ہے مگر ہمارے بچوں کی خیر مانگ رہا ہے ۔ خُوش ہو کر کچھ نہ کچھ جھولی میں ڈال دیتا ہے۔ یہاں حُکْم دیا گیا: اے ایمان والو! جب تم ہمارے یہاں کچھ مانگنے آؤ تو ہم تو اَولاد سے پاک ہیں مگر ہمارا ایک پیارا حبیب ہے محمدمُصْطفٰیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، اُس حبیبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُس کے اَہلِ بیت (عَلَیْہِم الرِّضْوان) کی اور اُس کے اَصحاب (عَلَیْھِم الرِّضْوان) کی خَیر مانگتے ہوئے، اُن کو دُعائیں دیتے ہوئے آؤ تو جن رَحمتوں کی اُن پر بارش ہورہی ہے اُس کا تُم پر بھی چھینٹا ڈال دیا جائے گا۔ دُرُود شریف پڑھنا دَراَصْل اپنے پروَرْدگار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ سے مانگنے کی ایک اعلیٰ ترکیب ہے۔اِس آیتِ مُقَدَّسہ میں مسلمانوں کو مُتَنَبَّہ (خبردار)