Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
313 - 645
اِنَّ اللہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا ﴿۵۶﴾ (پ۲۲،الاحزاب:۵۶)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللّٰہ اور اسکے فِرِشتے دُرُود بھیجتے ہیں  اس غیب بتانے والے (نبی) پراے ایمان والو! ان پر دُرُود اورخُوب سلام  بھیجو۔ 
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور فِرِشتوں  کا عَمل 
	مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اپنی مایہ ناز کتاب ’’شانِ حبیبُ الرحمن مِن آیاتِ القرآن‘‘میں  فرماتے ہیں  : ’’مَذکورہ بالا آیتِ کریمہ سرکارِمدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صَریح نعت ہے۔ اِس میں  ایمان والوں  کو پیارے مُصْطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودو سلام بھیجنے کا حُکْم دیا گیا ہے۔ لُطْف کی بات یہ ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَََّ نے قُرآنِ کریم میں  کافی اَحکامات صادِر فرمائے مَثَلاً نماز، روزہ، حج، وغیرہ وغیرہ۔ مگر کسی جگہ یہ اِرشاد  نہیں   فرمایا کہ یہ کام ہم بھی کرتے ہیں  ، ہمار ے فِرِشتے بھی کرتے ہیں  اور ایمان والو! تم بھی کیا کرو۔ صِرْف دُرُود شریف کے لیے ہی ایسا فرمایا گیا ہے۔ اِس کی وجہ بالکل ظاہر ہے۔ کیونکہ کوئی کام بھی ایسا  نہیں   جو خُدا عَزَّوَجَلَّکا بھی ہو اور بندے کا بھی۔ یقیناً اللّٰہتبارک و تعالیٰ کے کام ہم  نہیں   کر