بیان نمبر:32
مُبارَک پَرچہ
قِیامت کے دن کسی مسلمان کی نیکیاں میزان(یعنی ترازو) میں ہلکی ہو جائیں گی تو سروَرِ کائنات،شاہِ موجودات، مَحْبوبِ ربِّ الْارضِِ وَ السَّمٰوٰت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک پرچہ اپنے پاس سے نکال کرنیکیوں کے پلڑے میں رکھ دیں گے تو اس سے نیکیوں کاپلڑا وَزنی ہو جائے گا۔ وہ عَرْض کرے گا:’’ میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کون ہیں ؟‘‘حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرمائیں گے:’’میں تیر ا نبی محمد(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہوں اور یہ تیرا وہ دُرُودِ پاک ہے جو تُونے مجھ پر پڑھا تھا ۔‘‘(موسوعہ ابن ابی دنیا فی حسن الظن باللّٰہ، ۱ /۱۹، حدیث :۹۷)
وہ پرچہ جس میں لکھا تھا دُرُود اس نے کبھی
یہ اس سے نیکیاں اس کی بڑھانے آئے ہیں
(سامانِ بخشش،ص۱۲۶)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کردہ روایت سے دُرُودِپاک کی بَرَکت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جہاں دُنیا میں اس کے فوائد وثَمرات حاصل ہوتے ہیں وہیں اُخروِی فَضائل و بَرَکات کا حُصُو ل بھی ہوتا ہے۔دُرُودِ پاک پڑھنا ایسا عمل ہے کہ جسے خود خالقِ ارض وسمٰوٰت عَزَّوَجَلَّاور اسکے مَعصُوم فِرِشتے بھی کرتے ہیں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اِرشاد فرماتا ہے :