حالتِ بیداری میں جَوابِ سَلام
حضرتِ سَیِّدُنامحمود الکردی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَلِیْاپنی کتاب ’’اَلباقِیَاتُ الصَّالِحَات‘‘میں فرماتے ہیں :ایک رات جب میں سویاتو میری قِسمت کا ستارہ چَمک اُٹھا!کیادیکھتاہوں کہ میرے خَواب میں شہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَتشریف لے آئے۔‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کمالِ شَفْقَت فرماتے ہوئے مجھے سینے سے لگالیا اور ارشاد فرمایا: ’’اَکْثِرُوْاعَلَیَّ مِنَ الصَّلَاۃِمجھ پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھو! ‘‘نیز مجھے اپنی اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رِضا وخُوشنودی کی خُوشخبری سنائی ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اس قَدر مَحَبَّت دیکھ کرمیری آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے ،مجھے اپنی قِسمت پر رَشک آرہا تھا کہ آپ عَلیْہ السَّلام نے میرا ایسا والہانہ اِستقبال فرمایا اور مجھے اتنی عزَّت سے نوازا میں نے دیکھا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مُبارک آنکھوں سے بھی فرطِ شَفقت اور جوشِ مَحَبَّتسے آنسو رَواں تھے ، اتنے میں میری آنکھ کُھل گئی میرے رُخسار پر اب تک آنسوبہہ رہے تھے اس کے بعدمیں مُواجَہہ شریف کی طرف گیا تو میں نے رَوضۂ مبارکہ کے اندرسے ایسی ایسی بشارتیں سنیں جو بیان سے باہر ہیں ۔ ابھی میں مُواجَہہ شریف کے پاس ہی کھڑا تھا کہ عَین بیداری کے عالَم میں میں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ