Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
31 - 645
یہ بدلیاں  نہ ہوں  تو کروڑوں  کی آس جائے
اور بارگاہ مرحمتِ عام تر کی ہے
مَعْصُوموں  کو تو عُمر میں  صِرف ایک بار ،بار
	عاصِی پڑے رہیں  تو صَلا عُمر بھر کی ہے (حدائقِ بخشش، ص۲۲۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دن ہویارات ہمیں  اپنے مُحسن وغمگسار آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپردُرُدوسلام  کے پُھول نِچھاور کرتے ہی رہنا چاہیے۔ اِس میں  ہرگز کوتاہی  نہیں   کرنی چاہے ۔یُوں  بھی سرکارِ مدینہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ہم پر بے شُماراِحسانات ہیں  ۔ بَطَنِ سَیِّدہ آمنِہرضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے دُنیائے آب و گِل میں  جَلوہ اَفروز ہوتے ہی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سَجدہ فرمایا اور ہونٹوں  پر یہ دُعا جاری تھی:رَبِّ ھَبْ لِیْ اُمَّتِییعنی پَرْوَرْدَگار! میری اُمَّت میرے حوالے فرما۔(فتاوی رضویہ،۳۰/۷۱۲)
	امام زرقانی قُدِّسَ سرُّہُ الرَّبَّانی نَقْل  فرماتے ہیں  :’’ اُس وَقْت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُنگلیوں  کو اِس طرح اُٹھا ئے ہوئے تھے جیسے کو ئی گِرْیَہ وزاری کرنے والا اُٹھا تا ہے۔‘‘(زرقانی علی المواہب،ذکرتزویج عبداللّٰہ آمنۃ،۱/ ۲۱۱)
حدیث شریف میں  ہے:آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: