حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :’’ مَا شِئْتَ فَاِنْ زِدْتَ فَہُوَ خَیْرٌ لَکتم جتنا چاہو وقت مُقرَّر کرلو اور اگر تم اس سے زِیادہ وَقت مُقرَّر کرو گے تو تمہارے لیے بہتر ہی ہوگا۔ ‘‘تو حضرت اُبیّ بِن کَعبرَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُ نے عرض کی : ’’اَجْعَلُ لَکَ صَلَاتِی کُلَّہَا،میں دِن رات کا کل حصِّہ دُرُود خوانی ہی میں صرف کروں گا۔ ‘‘تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اِذًا تُکْفَی ہَمُّکَ وَیُغْفَرُ لَکَ ذَنْبُکَ اگرتم ایسا کرو گے تو دُرُود شریف تمہاری تمام فِکروں اور غموں کو دُور کرنے کے لیے کافی ہوجائے گا اور تمہارے تمام گناہوں کے لیے کَفَّارہ ہوجائے گا ۔ ‘‘(ترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ،باب۲۳،۴ /۲۰۷،حدیث:۲۴۶۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرت مولانا نقی علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اپنی کتاب’’انوارِ جمالِ مصطفیٰ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ بُزُرگ ترین ثَمرات اور گرامی ترین فوائدِ صلوٰۃ یہ ہیں کہ جب آدمی دُرُودِپاک کے آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے سردارِ مکۂ مکرمہ، سلطانِ مدینۂ منوَّرہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذات ِ طیبہ پر کثرت کے ساتھ دُرُود بھیجتا ہے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کیمَحَبَّت اس کے تمام دل کو گھیر لیتی ہے اور اس شجرِ مَحَبَّتسے حُضُور عَلَیْہِ السَّلام کی طَاعت و اِتباع کا ثَمرہ حاصل ہوتا ہے ۔(انوار جمال مصطفیٰ،ص۲۴۰مفہوماًو ملخصاً)