چلایا اور حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمت میں پہنچ کر عرض کی : اے ہاشم کی اولاداور قوم کے سردار! آپ حرم کے رہنے والے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے گھر کے پڑوسی ہیں ، قیدیوں کو رہا کراتے اور بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہیں ۔ ہم اپنے بیٹے کی طلب میں آپ کے پا س پہنچے ہیں ہم پر احسان فرماتے ہوئے فِدیہ قبول کریں اور اس کو رِہا کردیں بلکہ جو فدیہ ہو اس سے زِیادہ لے لیں ، حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:بس اتنی سی بات ہے ؟ عرض کی ! جی ہاں ! آپ عَلَیْہِ السَّلام نے ارشاد فرمایا: اس کو بلا ؤاور اس سے پوچھ لو اگر وہ تمھارے ساتھ جانا چاہے تو بغیر فدیہ ہی کے وہ تمہاری نذر ہے اور اگر نہ جانا چاہے تو میں ایسے شخص پر جبر نہیں کرسکتا جو خود نہ جاناچاہے ۔ اُنھوں نے عرض کی کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِستحقاق سے بھی زِیادہ اِحسان فرمایایہ بات خُوشی سے منظور ہے ۔ جب حضرت زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُ بلائے گئے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: تم ان کو پہچانتے ہو؟ عرض کیا جی ہاں ! پہچانتا ہوں یہ میرے باپ اور یہ میرے چچا ہیں ۔ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ میرا حال بھی تمہیں معلوم ہے۔ اب تمہیں اِختیار ہے کہ میرے پاس رہنا چاہو تو میرے پاس رہو، انکے ساتھ جانا چاہوتو اِجازت ہے ۔ حضرت زید رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُ نے عرض کی: حُضُور! میں آپ کے مقابلے میں بَھلا کس کو